Health News
حلال کیا ہے؟ استغفراللہ! حلال کے نام پر آج کل کیا زناکاری ہو رہی ہے؟ ویڈیو دیکھیں
|
|
ان سادہ لوحوں کے نام جو یہ کہتے ہیں۔۔۔ * جوڑا جہیز ایک سماجی بُرائی ضرور ہے لیکن حرام نہیں۔ * جہیز کا مطالبہ کرنا یقیناً غلط ہے لیکن لڑکی والے جو بھی ’’خوشی سے‘‘ دیں وہ جائز ہے۔ یہ تو دستور ہے۔ * یہ ہمارے علاقے میں بالکل نہیں ہوتا۔ یہ تو فلاں فلاں شہر کے لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ * حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو بھی تو جہیز دیا گیا تھا۔ * جہیز دراصل تحفہ ہے اور تحفہ دینا سنّت ہے۔ * شادی کے دن کھانا کھلانا مہمان نوازی ہے اور یہ جائز ہے۔ * مہر فوری ادا کرنا ضروری نہیں۔ بعد میں کبھی بھی دیا جا سکتا ہے۔ * شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے۔ * جو لینے کی بھول کر چکے وہ ہو چکا۔ اب استغفار کر لینے سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ اور ان بزدلوں کے نام جو یہ کہتے ہیں۔۔۔ * اس رسم کو مٹانا ناممکن ہے۔ * اگر نہیں لیں گے تو لڑکی والے شک کریں گے۔ * ہم لینا تو نہیں چاہتے تھے لیکن والدین نے ہماری لاعلمی میں لین دین طئے کر لیا۔ * لڑکی والوں نے خود اصرار کیا ورنہ ہم لینے کے قائل ہرگز نہ تھے۔ * اس زمانے میں آپ کی سنتا کون ہے، اس لئے کہہ کر تعلقات خراب کرنے سے فائدہ؟ * یہ کام تو جماعتوں، لیڈروں اور مرشدوں کو کرنا چاہئے، ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تقریظ بسم الله الرحمن الرحیم اسلام دین فطرت ہے ، اس لیے اس نے فطری تقاضوں کے پورا کرنے کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے ، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کو آسان بھی بنایا ہے۔ ایسے ہی تقاضوں میں ایک ’نکاح‘ بھی ہے ، نکاح ایک ایسا معاملہ ہے کہ اگر کسی کے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہو ، تب بھی وہ نکاح کر سکتا ہے ، البتہ اس پر دو مالی ذمہ داریاں رکھی گئی ہیں : ایک : مہر جو فرائض نکاح میں ہے ، لیکن اسے باہمی رضا مندی سے مہلت کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے ، دوسرے : ولیمہ جو سنت ہے ، اور اسراف و تکلف کے بغیر اپنی حیثیت کے مطابق کیا جا سکتا ہے ، یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے تھوڑے سے جو اور چند پیالے دودھ سے ولیمہ کیا ہے ، یہ سہولت اس لیے رکھی گئی ہے کہ حلال کو انجام دینا جتنا آسان ہو گا ، معاشرہ میں حرام کا ارتکاب اتنا دشوار ہو جائے گا اور اگر حلال کو دشوار کر دیا جائے تو حرام اور گناہ لوگوں کے لیے آسان ہو جائے گا۔ چونکہ یہ دونوں ذمہ داریاں مردوں پر رکھی گئی ہیں۔ اس لیے مسلم معاشرہ میں برصغیر کے سوا کہیں یہ تصور نہیں کہ نکاح میں عورت پر کوئی مالی بوجھ ڈالا جائے بلکہ اس کا برعکس پہلو عرب معاشرہ میں ملتا تھا کہ لڑکی اور اس کا ولی ہونے والے شوہر و داماد سے ایک خطیر رقم کا مطالبہ کرتے تھے آج بھی خلیجی ملکوں میں یہ رواج ہے ، اس لیے فقہ کی کتابوں میں اسی رسم کی مذمت ملتی ہے۔ ہندوستان میں ہندو معاشرہ میں قدیم زمانہ سے عورت کو جہیز دینے کا تصور چلا آ رہا ہے ، کیوں کہ ہندو مذہب میں عورت کو اپنے والدین کی جائیداد میں میراث نہیں ملتی۔ جب وہ اپنے سسرال رخصت کی جاتی تو سمجھا جاتا کہ اب اس خاندان سے اس کا کوئی رشتہ نہیں رہا ، اس لیے کوشش یہ کی جاتی کہ اس کو کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا جائے۔ اسلامی شریعت میں مرد و عورت دونوں حقوق کے اعتبار سے مساوی درجہ کے حامل ہیں۔ ماں کو اپنی اولاد کے ترکہ سے ، بیٹی کو اپنے ماں باپ کے ترکہ سے اور بیوی کو شوہر کے ترکہ سے لازماً میراث ملتی ہے اور اس کا تعلق اپنے خاندان سے باقی رہتا ہے ، بد قسمتی سے ہندو سماج سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے بھی ایک طرف جہیز کی غلط رسم کو اختیار کر لیا اور دوسری طرف عورتوں کو حقِ میراث سے محروم کرنے لگے۔۔ ان غلط رسوم کے تدارک کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مختلف مذہبی و سماجی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں مفید لٹریچر بھی شائع ہوتے رہے ہیں ، اللہ تعالی جزائے خیر دے محبی جناب علیم خاں فلکی زیدت حسناتہ کو کہ انہوں نے جہیز اور شادی کے موقع پر انجام دی جانے والی غیر شرعی اور فضول خرچی پر مبنی رسوم کا بڑی تفصیل سے سے جائزہ لیا ہے اور امت کی دکھتی ہوئی رگ پر انگلی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس موضوع پر جو قلمی کاوشیں ہوئی ہیں ، غالباً یہ ان میں سب سے جامع تحریر ہے اور عام فہم زبان اور سادہ اسلوب میں لکھی گئی ہے تاکہ مولف کا پیغام محبت اور کلمۂ نصح و دعوت ہر طبقہ تک پہنچ سکے اور کم پڑھے لکھے لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ کاش ! مصنف کے الفاظ ہمارے سماج میں کانوں اور دلوں کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہو گیا ہے ، اس کو طے کر سکیں۔ ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں اور قلب و نظر کے بند دروازوں پر دستک دے سکیں۔ وبالله التوفیق وھوالمستعان
بسم الله الرحمن الرحیم
اسلام دین فطرت ہے ، اس لیے اس نے فطری تقاضوں کے پورا کرنے کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے ، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کو آسان بھی بنایا ہے۔ ایسے ہی تقاضوں میں ایک ’نکاح‘ بھی ہے ، نکاح ایک ایسا معاملہ ہے کہ اگر کسی کے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہو ، تب بھی وہ نکاح کر سکتا ہے ، البتہ اس پر دو مالی ذمہ داریاں رکھی گئی ہیں : ایک : مہر جو فرائض نکاح میں ہے ، لیکن اسے باہمی رضا مندی سے مہلت کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے ، دوسرے : ولیمہ جو سنت ہے ، اور اسراف و تکلف کے بغیر اپنی حیثیت کے مطابق کیا جا سکتا ہے ، یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے تھوڑے سے جو اور چند پیالے دودھ سے ولیمہ کیا ہے ، یہ سہولت اس لیے رکھی گئی ہے کہ حلال کو انجام دینا جتنا آسان ہو گا ، معاشرہ میں حرام کا ارتکاب اتنا دشوار ہو جائے گا اور اگر حلال کو دشوار کر دیا جائے تو حرام اور گناہ لوگوں کے لیے آسان ہو جائے گا۔ چونکہ یہ دونوں ذمہ داریاں مردوں پر رکھی گئی ہیں۔ اس لیے مسلم معاشرہ میں برصغیر کے سوا کہیں یہ تصور نہیں کہ نکاح میں عورت پر کوئی مالی بوجھ ڈالا جائے بلکہ اس کا برعکس پہلو عرب معاشرہ میں ملتا تھا کہ لڑکی اور اس کا ولی ہونے والے شوہر و داماد سے ایک خطیر رقم کا مطالبہ کرتے تھے آج بھی خلیجی ملکوں میں یہ رواج ہے ، اس لیے فقہ کی کتابوں میں اسی رسم کی مذمت ملتی ہے۔ ہندوستان میں ہندو معاشرہ میں قدیم زمانہ سے عورت کو جہیز دینے کا تصور چلا آ رہا ہے ، کیوں کہ ہندو مذہب میں عورت کو اپنے والدین کی جائیداد میں میراث نہیں ملتی۔ جب وہ اپنے سسرال رخصت کی جاتی تو سمجھا جاتا کہ اب اس خاندان سے اس کا کوئی رشتہ نہیں رہا ، اس لیے کوشش یہ کی جاتی کہ اس کو کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا جائے۔ اسلامی شریعت میں مرد و عورت دونوں حقوق کے اعتبار سے مساوی درجہ کے حامل ہیں۔ ماں کو اپنی اولاد کے ترکہ سے ، بیٹی کو اپنے ماں باپ کے ترکہ سے اور بیوی کو شوہر کے ترکہ سے لازماً میراث ملتی ہے اور اس کا تعلق اپنے خاندان سے باقی رہتا ہے ، بد قسمتی سے ہندو سماج سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے بھی ایک طرف جہیز کی غلط رسم کو اختیار کر لیا اور دوسری طرف عورتوں کو حقِ میراث سے محروم کرنے لگے۔۔ ان غلط رسوم کے تدارک کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مختلف مذہبی و سماجی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں مفید لٹریچر بھی شائع ہوتے رہے ہیں ، اللہ تعالی جزائے خیر دے محبی جناب علیم خاں فلکی زیدت حسناتہ کو کہ انہوں نے جہیز اور شادی کے موقع پر انجام دی جانے والی غیر شرعی اور فضول خرچی پر مبنی رسوم کا بڑی تفصیل سے سے جائزہ لیا ہے اور امت کی دکھتی ہوئی رگ پر انگلی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس موضوع پر جو قلمی کاوشیں ہوئی ہیں ، غالباً یہ ان میں سب سے جامع تحریر ہے اور عام فہم زبان اور سادہ اسلوب میں لکھی گئی ہے تاکہ مولف کا پیغام محبت اور کلمۂ نصح و دعوت ہر طبقہ تک پہنچ سکے اور کم پڑھے لکھے لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ کاش ! مصنف کے الفاظ ہمارے سماج میں کانوں اور دلوں کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہو گیا ہے ، اس کو طے کر سکیں۔ ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں اور قلب و نظر کے بند دروازوں پر دستک دے سکیں۔ وبالله التوفیق وھوالمستعان
Ashlee
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor Aenean massa.Aenean commodo ligula eget dolor Aenean massa.

0 comments